اچھی خبر یہ ہے کہ درست طرزِ زندگی، مناسب غذائیت اور صحت مند عادات کے ساتھ 40 کے بعد بھی خواتین صحت مند، متحرک، ذہنی طور پر مضبوط، جوان اور پُرکشش رہ سکتی ہیں۔
یہ تحریر اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ چالیس سال کی عمر کے بعد انسانی جسم میں کون سی اہم تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں، اور ان تبدیلیوں کو قدرتی اور صحت مند طریقوں سے کس طرح متوازن اور قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔۔
چالیس سال کے بعد ہارمونل تبدیلیاں کیسے ہوتی ہیں؟
خواتین کے جسم میں بیضہ دانیاں (اووریز) ہارمونز پیدا کرنے کا بنیادی ذریعہ ہوتی ہیں۔ کم عمری میں یہی بیضہ دانیاں ایسٹروجن اور پروجیسٹرون جیسے اہم ہارمونز خارج کرتی ہیں، جو درج ذیل جسمانی اور حیاتیاتی افعال کے لیے نہایت ضروری ہوتے ہیں:
-
دل کی صحت
-
ہڈیوں کی مضبوطی
-
ذہنی سکون
-
جلد کی لچک
-
بہتر نیند
-
جذباتی توازن
45 سال کی عمر کے بعد خواتین کے جسم میں قدرتی طور پر ہارمونز کی سطح کم ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ یہ عمل آہستہ آہستہ بڑھتا ہے اور ایک مرحلے پر جا کر ہارمونز کی پیداوار تقریباً ختم ہو جاتی ہے۔ اس ہارمونل تبدیلی کے نتیجے میں جسمانی اور ذہنی صحت پر گہرے اثرات پڑ سکتے ہیں۔ بہت سی خواتین کو اچانک گرم لہروں اور رات کے وقت زیادہ پسینے کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس سے نیند متاثر ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بے چینی، اداسی، ڈپریشن اور موڈ میں بار بار تبدیلی جیسے مسائل بھی عام ہو جاتے ہیں۔
مزید یہ کہ نیند کی کمی اور یادداشت کمزور ہونے لگتی ہے، ذہن میں دھند سی محسوس ہوتی ہے اور توجہ برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ہارمونز کی کمی دل کی بیماریوں کے خطرے میں اضافہ کر سکتی ہے جبکہ ہڈیاں کمزور ہو کر آسٹیوپوروسس کا سبب بن سکتی ہیں۔ جوڑوں اور پٹھوں میں درد، جلد کا خشک ہونا اور پیشاب کی نالی میں بار بار انفیکشن بھی اسی مرحلے کی عام علامات ہیں۔ اگر اس دور میں صحت مند طرزِ زندگی اختیار کیا جائے اور بروقت رہنمائی حاصل کی جائے تو ان مسائل کو کافی حد تک قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔
ٹِپ 1: ایڈرینل گلینڈز کی صحت کو سپورٹ کریں
مینوپاز کے بعد جسم میں ایسٹروجن کی قدرتی پیداوار بہت حد تک کم ہو جاتی ہے، ایسے میں ایڈرینل گلینڈز محدود مقدار میں اس ہارمون کی تیاری میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اسی لیے اس مرحلے پر ایڈرینل گلینڈز کی صحت کو نظر انداز کرنا ہارمونل عدم توازن کو بڑھا سکتا ہے۔ ہارمونز کی تیاری کے لیے صحت مند چکنائی اورصحت بخش کولیسٹرول بنیادی جز سمجھے جاتے ہیں، لہٰذا چکنائی کو مکمل طور پر ترک کرنا فائدے کے بجائے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ دیسی گھی اور مکھن، مکمل انڈے خصوصاً ان کی زردی، قدرتی چکنائی والا گوشت، کلیجی (مہینے میں ایک یا دو بار)، چربی والی مچھلی جیسے سالمن اور سارڈین، اور زیتون کا تیل ایسی غذائیں ہیں جو نہ صرف ہارمونز کی تیاری میں مدد دیتی ہیں بلکہ ایڈرینل گلینڈز کو مضبوط بناتی ہیں اور آئرن کی کمی سے بچاؤ میں بھی معاون ثابت ہوتی ہیں۔ مناسب مقدار میں ان غذاؤں کا استعمال خواتین کو مینوپاز کے بعد بہتر توانائی، متوازن مزاج اور مجموعی صحت برقرار رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔
ٹِپ 2: مضبوط پٹھے: صحت مند زندگی کی کنجی
مضبوط پٹھے عمر کے ساتھ آنے والی کئی بیماریوں سے جسم کو محفوظ رکھتے ہیں۔ خاص طور پر 40 سال کے بعد پٹھوں کی مضبوطی صحت مند اور ایکٹو زندگی کے لیے بہت ضروری ہو جاتی ہے۔
پتلے مگر مضبوط پٹھوں کے اہم فائدے
مضبوط پٹھے نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی صحت پر بھی مثبت اثر ڈالتے ہیں:
-
ہڈیاں اور جوڑ مضبوط رہتے ہیں
-
آسٹیوپوروسس (ہڈیوں کی کمزوری) سے بچاؤ ہوتا ہے
-
جسمانی پوسچر اور توازن بہتر ہوتا ہے
-
جوڑوں کے درد اور اکڑن میں کمی آتی ہے
-
یادداشت اور ذہنی صلاحیت بہتر ہوتی ہے
40 سال کے بعد بہترین ورزش کون سی ہے؟
40 کے بعد ویٹ یا ریزسٹنس ٹریننگ سب سے مؤثر ورزش سمجھی جاتی ہے۔
-
ہفتے میں 3 سے 4 دن ورزش کریں
-
گھر پر یا جم میں، دونوں جگہ یہ ورزش مؤثر ہوتی ہے
-
ہلکے وزن سے آغاز کریں اور آہستہ آہستہ اضافہ کریں
مضبوط پٹھے اور ذہنی سکون
مضبوط پٹھے جسم میں Feel-Good Hormones خارج کرتے ہیں، جو:
-
بے چینی میں کمی لاتے ہیں
-
ڈپریشن کے خطرے کو کم کرتے ہیں
-
اسٹریس اور ذہنی دباؤ کم کرنے میں مدد دیتے ہیں
نتیجہ
اگر آپ 40 سال کے بعد بھی خود کو توانا، مضبوط اور ذہنی طور پر پرسکون رکھنا چاہتے ہیں تو اپنی روزمرہ زندگی میں ریزسٹنس ٹریننگ کو ضرور شامل کریں۔ مضبوط پٹھے صحت مند بڑھاپے کی بنیاد ہیں۔
ٹِپ 3: انسولین ریزسٹنس کم کریں
انسولین ریزسٹنس آج کل وزن بڑھنے اور کئی بیماریوں کی بڑی وجہ بن چکی ہے۔ زیادہ شوگر، پروسیسڈ فوڈ اور میٹھے مشروبات انسولین کو صحیح طریقے سے کام نہیں کرنے دیتے، جس کے نتیجے میں جسم میں مختلف مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
انسولین ریزسٹنس کی وجہ سے یہ مسائل ہو سکتے ہیں:
-
وزن میں اضافہ
-
ذیابیطس کا خطرہ بڑھ جانا
-
ہارمونز کا عدم توازن
-
مسلسل تھکن اور کمزوری
انسولین ریزسٹنس کم کرنے کا بہترین حل: انٹرمیٹنٹ فاسٹنگ
انٹرمیٹنٹ فاسٹنگ ایک آسان اور مؤثر طریقہ ہے جو جسم کو چربی جلانے میں مدد دیتا ہے۔
-
رات کا کھانا مغرب اور عشاء کے درمیان کھائیں
-
اگلا کھانا صبح 9 سے 10 بجے کے درمیان کریں
-
اس طرح تقریباً 14 گھنٹے کا فاسٹنگ ونڈو بنتا ہے
جب جسم کو وقفہ ملتا ہے تو وہ چربی جمع کرنے کے بجائے جلانا شروع کر دیتا ہے، جس سے وزن کنٹرول میں رہتا ہے اور انسولین بہتر کام کرتی ہے۔
ساتھ ہی ان باتوں کا بھی خیال رکھیں:
-
غیر صحت بخش غذا(Junk Food) سے پرہیز کریں
-
گھر کا تازہ اور سادہ کھانا کھائیں
-
شوگر اور میٹھے مشروبات پر کنٹرول رکھیں
اگر آپ انسولین ریزسٹنس کم کرنا، وزن گھٹانا اور خود کو چست اور توانا رکھنا چاہتے ہیں تو انٹرمیٹنٹ فاسٹنگ اور صحت مند خوراک کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں۔
ٹِپ 4: فائیٹوایسٹروجن والی غذائیں شامل کریں
فائیٹوایسٹروجن(Phytoestrogen) قدرتی پودوں سے حاصل ہونے والے اجزا ہوتے ہیں جو جسم میں ایسٹروجن ہارمون کے توازن کو برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ خاص طور پر خواتین کے لیے یہ غذائیں ہارمونل تبدیلیوں کے دوران بہت فائدہ مند ثابت ہوتی ہیں۔
فائیٹوایسٹروجن سے بھرپور بہترین غذائیں:
-
تل
-
چنے اور دالیں
-
السی اور مکس بیج
-
انار
-
سیب
-
بیریز (اسٹرابیری، بلیوبیری، راسپبیری)
ان غذاؤں کا باقاعدہ استعمال ہارمون بیلنس بہتر کرتا ہے، جلد کو صحت مند بناتا ہے اور جسمانی توانائی میں اضافہ کرتا ہے۔ اگر آپ قدرتی طریقے سے صحت مند رہنا چاہتی ہیں تو فائیٹوایسٹروجن والی غذاؤں کو اپنی روزمرہ خوراک کا حصہ ضرور بنائیں۔
ٹِپ 5: 40 کے بعد خواتین کے لیے اہم سپلیمنٹس
آج کی مصروف زندگی میں اسٹریس، بے چینی، نیند کی کمی اور جسمانی کمزوری عام مسائل بن چکے ہیں۔ خوش قسمتی سے کچھ قدرتی سپلیمنٹس ایسے ہیں جو ذہنی اور جسمانی صحت کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتے ہیں۔
اشواگندھا کے فوائد
اشواگندھا ایک طاقتور جڑی بوٹی ہے جو صدیوں سے آیورویدک طب میں استعمال ہو رہی ہے۔
-
ذہنی دباؤ اور بے چینی میں کمی
-
ہارمونل بیلنس اور ایڈرینل سپورٹ
-
نیند کے معیار میں بہتری
-
جسمانی توانائی میں اضافہ
یہ سپلیمنٹ خاص طور پر ان افراد کے لیے مفید ہے جو مسلسل تھکن یا اسٹریس محسوس کرتے ہیں۔
میگنیشیم گلائسینیٹ کے فوائد
میگنیشیم گلائسینیٹ اعصابی نظام کو سکون دینے کے لیے بہترین سمجھا جاتا ہے۔
-
اعصاب کو آرام
-
پٹھوں کے کھنچاؤ اور درد میں کمی
-
بہتر اور گہری نیند
-
اینزائٹی اور ڈپریشن میں مدد
یہ ان لوگوں کے لیے فائدہ مند ہے جنہیں نیند یا مسلز کے مسائل ہوں۔
وٹامن ڈی کیوں ضروری ہے؟
وٹامن ڈی جسم میں ہارمون کی طرح کام کرتا ہے اور مجموعی صحت کے لیے نہایت اہم ہے۔
-
ہڈیوں کو مضبوط بناتا ہے
-
مدافعتی نظام کو سپورٹ
-
موڈ کو بہتر بناتا ہے
-
فریکچر کے خطرے میں کمی
دھوپ کی کمی وٹامن ڈی کی کمی کی بڑی وجہ ہے، اس لیے سپلیمنٹ مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
⚠️ کسی بھی سپلیمنٹ کا استعمال شروع کرنے سے پہلے اپنے ڈاکٹر یا ماہرِ صحت سے ضرور مشورہ کریں، خاص طور پر اگر آپ پہلے سے کوئی دوا استعمال کر رہے ہیں یا کسی بیماری میں مبتلا ہیں۔
آخری بات
عمر بڑھنا ایک قدرتی حقیقت ہے، لیکن کمزوری، بیماری اور بے جان بڑھاپا لازمی نہیں۔ درست طرزِ زندگی اپنا کر خواتین چالیس سال کے بعد بھی خود کو صحت مند، مضبوط اور پُراعتماد رکھ سکتی ہیں


